ویڈیو سکینڈل۔۔۔جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

63

اسلام آباد(نیوز ڈیسک آن لائن)احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اُن کےعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خدمات واپس کرنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت قانون کو خط لکھ دیا ہے وزارت قانون کو لکھے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ وہ جج ارشد ملک کی خدمات واپس لیں۔ تاہم اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اُن کی خدمات واپس وزارت قانون کو کر دی گئی ہیں قبل ازیں جج ارشد ملک نے اپنا جواب رجسٹرار ہائی کورٹ کو جمع کروایا تھا جس کے ساتھ کچھ اضافی دستاویزات بھی جمع کروائی گئی تھیں جج ارشد ملک نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ حلفاً بیان کرتے ہیں کہ اُن کا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں اُن کو بدنام کیا جا رہا ہے ۔جج ارشد ملک نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ ویڈیو کو ایڈٹ کر کے چلایا جا رہا ہے مجھ پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنانے کے لئے کوئی دباؤ نہیں تھا اس سے قبل احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی جانب سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی تھی اب سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایک آئینی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے جس میں عدلیہ کو بدنام کئے جانےپر اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے

Facebook Comments