ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو جھٹکا ، مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے سامنے بلوچستان کی وزارت اعلی اور تین وفاقی وزارتوں کی ڈیل رکھ دی

32

اسلام آباد( نیوز ڈیسک آن لائن) چند یوم قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کے ہمراہ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی تھی جس میں چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے پر بات چیت کی گئی تھی۔

اس ملاقات پر حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آئے تھےاس پر بات کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خاں کو اسلام آباد بچانے کے لئےشبلی فراز کو مولانا فضل الرحمن کے پاس نہیںبھیجنا چاہئے تھا مولانا فضل الرحمن بہت سمجھدار انسان ہیں وہ ایک دن ملاقات کرتے ہیں اور ملاقات میں کوئی ٹافی نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت مانگتے ہیں۔ بات یہیں پر نہیں ختم ہوئی بلکہ مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان کی وزارت اعلی کے ساتھ ساتھ وفاق سے تین وزارتیں بھی مانگ لی ہیں۔ عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے تو بلوچستان کی وزارت اعلی ایسے مانگی ہے جیسے گھر میں بچہ ضد کرتا ہے اور ٹافی مانگتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ اگر اُن کی پارٹی کو بلوچستان کی وزارت اعلی اور وفاق میں تین وزارتیں مل جائیں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے اور پیپلز پارٹی کو بھی راضی کر لیں گے۔ چند یوم قبل حکومتی وفد کی ملاقات پر شیخ رشید نے کہا تھا کہ ملاقات کر نے پر شبلی فراز کی کھنچائی ہوئی ہے جبکہ فواد چودھری نے کہا تھا کہ وفد نے یہ ملاقات وزیر اعظم کی رضامندی سے کی تھی۔

Facebook Comments