آج کی سب سے بڑی خبر :تحریک اِنصاف کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی ،اور اِس پھوٹ کی وجہ ایک مولانا صاحب ہیں،اصل کہانی کیا ہے ؟آپ بھی جانئے

67

پشاور(ویب ڈیسک)سینٹ الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کی طرف سے 6 نام دیے جانے کی خبر آئی تھی۔ایک نئی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے اہم قائدین کی مخالفت کے باعث مولانا سمیع الحق کو سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹ نہ مل سکا۔ مولانا سمیع الحق کو ٹکٹ دینے کی مخالفت

تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ صوبائی قائدین کی جانب سے بھی کی گئی۔۔تحریک انصاف کے اجلاس میں تحریک انصاف کے دیگر امیدواروں کے ساتھ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا نام بھی پیش کیاگیا تاہم تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کی جانب سے ان کے نام کی مخالفت کی گئی۔اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کو ٹکٹ دینے کی مخالفت تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ صوبائی قائدین کی جانب سے بھی کی گئی جس کے باؑعث ان کے نام پر اتفاق نہ ہوسکا۔یاد رہے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے اعلان کے بعد گذشتہ مہینہ جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور مولانا سمیع الحق کی دوبدو ملاقات ہوئی جس میں حلقہ این اے 4 (پشاور) کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرنے اور درسی کتابوں میں موجود غلطیوں کو ختم کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا گیا۔قبل ازیں آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلیجنس) کے سابق افسر میجر محمد عامر نے مولانا سمیع الحق سے تفصیلی ملاقات کی تھی جس میں آئندہ انتخابات سے قبل مذہبی جماعتوں کے اتحاد پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اکوڑہ خٹک سے بذریعہ ٹیلی فون نجی نیوز چینل

سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’اجلاس میں حالیہ سیاسی صورتحال اور مجلسِ عمل کی بحالی پر گفتگو کی گئی‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’میری جماعت چاہتی ہے کہ تمام مذہبی جماعتیں متحد ہوکر آئندہ انتخابات میں ایک مضبوط پلیٹ فارم سے حصہ لیں‘۔واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مذہبی اتحاد، دفاعِ پاکستان کونسل اور ملی یکجہتی کونسل کا حصہ ہیں اور اب وہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔متحدہ مجلس عمل کا اتحاد آئندہ ماہ بحال ہوجائے گا جس میں 6 بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت دیگر تنظیمیں بھی شامل ہوں گی۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مجلس عمل کی دوبارہ بحالی کے لیے تمام چیزوں پر متفق ہیں اور اس اتحادکی بحالی کا اعلان دسمبر 2017 میں کیا جائے گا۔یاد رہے کہ متحدہ مجلس عمل کو 2002 میں تشکیل گیا تھا جس کے بعد 2007 میں یہ اتحاد ختم ہوگیا تھا۔جمیعت علماء اسلام (س) کے سربراہ کا پیر کے روز اکوڑہ خٹک میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ہم جان بوجھ کر اس اتحاد کا حصہ بنیں گے تاہم اس بات کا حتمی فیصلہ

28 نومبر کو جماعت کے اجلاس (جنرل کونسل) میں کیا جائے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام (ف) وفاق اور خیبرپختونخوا سے حکومتی اتحاد ختم کردیں گے تاہم اگر نہ ختم کیا تو مجلس عمل کی بحالی کا عمل بالکل بے کار ہوگا‘۔ایک سوال کے جواب میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کا مقصد آئندہ انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت اور باہمی تعاون تھا‘۔اُن کا کہنا تھا کہ میجر عامر بھی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی حمایت میں ہیں۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے 2017-2016 کے بجٹ میں 3 کروڑ روپے دارالعلوم حقانیہ کی تعمیر و توسیع کے لیے مختص کیے تھے۔صوابی میں موجود نمائندہ ڈان کے مطابق میجر عامر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور مذہبی جماعتوں کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے جلد سینیٹر سراج الحق سے ملاقات ہو گی۔اُن کا کہنا تھا کہ ’تین بڑی مذہبی جماعتوں کے سربراہان، مولانا سمیع الحق اور مولانا طیب حالیہ صورتحال میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت مذہبی جماعتوں کا اتحاد وقت کی عین ضرورت ہے تاکہ سب متحدہ ہوکر مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں‘۔

Facebook Comments