چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ناکامی کے بعد ن لیگی رہنماآپے سے باہر ہوگئے، اسلام آباد میں حالات خراب ،افسوسناک اطلاعات موصول

70

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ناکامی کے بعد (ن) لیگی رہنما آگ بگولا، اسلام آباد میں حالات خراب ،افسوسناک اطلاعات موصول…اسلام آباد(ویب ڈیسک) چئیرمین سینیٹ اکے انتخاب کے بعد افسوسناک واقعہ پیش آیا جب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے چیئرمین سینٹ کے عہدے کا حلف اُٹھالیا توسینٹ ہال میں ہاتھاپائی شروع ہوگئی

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینٹ ہال میں وزیراعظم کے رشتے دار اور تحریک انصاف کے ایک رہنما میں شدید تلخ کلامی کے بعد ہاتھاپائی شروع ہوگئی ،نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ حامد الحق کے ساتھ ہاتھاپائی کرنے والے وزیراعظم کے بیٹے تھے جن کی اس موقع پرتلخ کلامی کے بعد حامد الحق کے ساتھ ہاتھاپائی بھی ہوئی ،نجی ٹی وی سما نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کے بیٹے اس جھگڑے کے فوراً بعد روانہ ہوگئے ہیں ، واقعہ کے بعد بتایاجارہاہے کہ حامد الحق زخمی ہوگئے ہیں اور ان کی گردن پر زخم ہیں، حامد الحق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میری گردن پکڑ لی تھی جس پر میں نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو اس نے میری گردن چھوڑی،یہ افسوسناک واقعہ تب پیش آیا جب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے چیئرمین سینٹ کے عہدے کا حلف اُٹھالیا توسینٹ ہال میں ہاتھاپائی شروع ہوگئی، نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینٹ ہال میں وزیراعظم کے رشتے دار اور تحریک انصاف کے ایک رہنما میں شدید تلخ کلامی کے بعد ہاتھاپائی شروع ہوگئی ، جس کے بعد سیکورٹی کو طلب کرلیاگیا اور صورتحال کو کنٹرول کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے

واضح رہے کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے سلسلے میں کارروائی مکمل کی جارہی تھی کہ اس موقع پر لڑائی شروع ہوگئی،اس انتخاب کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ مقابلہ انتہائی کانٹے دار ہوگا جبکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہی نکلا ، صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بننے کے لئے 52ووٹوں کی ضرورت تھی جبکہ انہوں نے مطلوبہ تعداد سے بھی 5ووٹ زیادہ حاصل کئے اس طرح حکمران جماعت کے امیدوار راجہ ظفرالحق کو سرپرائز شکست کا سامناکرنا پڑ گیا،چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا الیکشن مقررہ وقت پر شروع ہوا ، جس میں حکمران جماعت ن لیگاور اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ راجہ ظفر الحق اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے عثمان کاکڑ جبکہ پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے سلیم مانڈوی والا مدمقابل تھے۔پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب رضا نے سینٹ الیکشن کنڈکٹ کروائے جبکہ پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم نے ڈالا۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد گنتی کے عمل میں حکمران جماعت ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ راجہ ظفر الحق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اور پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار صادق سنجرانی جو کہ چیئرمین سینٹ کی سیٹ کیلئے امیدوار تھے نے میدان مار لیا ہے۔

Facebook Comments