”آج ہاﺅس کا منہ کالا ہو گیا مبارک باد کس چیز کی۔۔۔۔؟ “ یہ الفاظ کس سیاستدان نے پارلیمنٹ میں ادا کیے؟ ناقابل یقین خبر آگئی

107

لاہور(نیوزڈیسک آن لائن)نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سینیٹر میر حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے ناراض نظر آ ئے اور انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کھل کر کھڑے ہو کر اپنی تقریر میں کیا تاہم نو منتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی انہیں روکتے رہے ۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ اور

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےانتخاب کے بعد مبارک باد دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے مبارک باد پیش کی اس کے بعد نیشنل پارٹی کے سربراہ اور ن لیگ کے اتحادی میر حاصل بزنجو اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ” مجھے آج اس ایوان میں بیٹھے ہوئے شرم آ رہی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ آج پارلیمنٹ ہار چکی ہے ، بالاد ست طبقے نے بتا دیا کہ وہ پارلیمنٹ کو منڈی بنا سکتے ہیں ،آ ثابت ہو گیا کہ پیپلز پارٹی نہیں بالادست طبقے جیتے ہیں ۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اینٹری ماری اور انہیں تقریر کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آج تقریر کا دن نہیں آپ مبارک باد دیں اس پر بھی میرحاصل بزنجو غصے میں نظر آ ئے اور جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”آج ہاﺅس کا منہ کالا ہو گیا مبارک باد کس چیز کی “۔ تقریر کے دوران کچھ اراکین نے تالیاں بجائی تو اس پر بھی میر حاصل بزنجونے کہا کہ تالیاں بجانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کا کہناتھا کہ آج شہید بےنظیر نہیں جیتیں ،ذوالفقار علی بھٹو نہیں جیتا،بالادست طبقہ جیتا ہے۔ واضح رہے کہ

ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات کے حتمی نتائج میں میر صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر چیئرمین منتخب ہوگئے۔ نو منتخب چیئرمین نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، ان کے مد مقابل راجا ظفر الحق 46 ووٹ لے سکے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے اتحاد کی جانب سے راجا ظفر الحق چیئرمین، عثمان کاکڑ ڈپٹی چیئرمین، جبکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے صادق سنجرانی کو چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ایوان بالا کے کل 104 اراکین میں سے پاکستان مسلم لیگ ن اپنے 33 سینیٹرز کے ساتھ سرفہرست تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس 20 اور پی ٹی آئی کے پاس 13 سینیٹرز ہیں۔ ابتدا میں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی تھی، تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ فرق دو یا تین ووٹوں کا ہوگا مگر اپوزیشن اتحاد کے امیدوار نے گیارہ ووٹوں کے فرق سے حکومتی اتحاد کے امیدوار کو غیر متوقع شکست دی۔اس حوالے سے ابتداء میں ذرائع دعویٰ کر رہے تھے کہ اتحادیوں کے 14 سینیٹرز، مسلم لیگ فنکشنل ایک اور فاٹا کا ایک آزاد سینیٹر بھی مسلم لیگ ن کی ٹیم میں شامل ہے جس کے بعد سینیٹ میں نمبرز گیم کے چارٹ پر مسلم لیگ ن اور حامیوں نے 49 ووٹ پکے کرلیے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔

Facebook Comments