سپریم کورٹ سے بڑی بریکنگ نیوز:نہال کے بعد دانیال کی شامت آ گئی، ایک فیصلہ نے بائیس کروڑ عوام کا دل خوش کر دیا

78

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کے حوالے سے بڑی خبر آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے دانیال عزیز کے

وکیل کو فرد جرم کی چارج شیٹ پڑھ کر سنائی تو انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا۔جسٹس مشیر عالم نے فرد جرم پڑھ کر سنائی اور کہا کہ آپ نے 2017 میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کی جس میں آپ نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے نگراں ججز نے ریفرنس تیار کروائے۔فرد جرم میں کہا گیا کہ آپ نے جسٹس اعجاز الاحسن کے لئے کہا کہ ان کے خلاف مواد اکٹھا کیا ہے اور ایک انٹرویو کے دوران آپ نے کہا کہ جہانگیر ترین کو قربان کر کے عمران خان کو اور پی ٹی آئی کو بچانا مقصد ہے۔ فرد جرم میں مزید کہا کہ آپ کے خلاف توہین عدالت کے سیکشن تین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے، کیا آپ الزامات مانتے ہیں جس پر دانیال عزیز نے کہا کہ صحت جرم سے انکار کرتا ہوں۔ توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔دانیال عزیز نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ درخواست گزار پاکستان کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے اور کبھی ریاستی اداروں کی توہین و تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا۔یاد رہے

کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی ٹاک شوز کے دوران دانیال عزیز کے عدلیہ مخالف بیانات پر 2 فروری کو توہین عدالت کا ازخودنوٹس لیتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تھا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کوترقیاتی فنڈز جاری کررہی ہے، کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول دھاندلی میں نہیں آتا؟جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن سے پہلے کروڑوں کے فنڈز کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں؟چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے فنڈز کے اجراء کی قانونی حیثیت پوچھ کرعدالت کو آگاہ کریں۔اور اس سے پہلے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں 24کروڑ روپے اشتہارات پر

خرچ کیے، یہ اشتہارات یکم دسمبر 2017 سے لے کر 28 فروری 2018 تک دیئے گئے، تین ماہ کے اشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویر تلاش نہیں کرسکا۔

Facebook Comments