پاکستان سے دھاندلی اور سیاسی جھرلو کے خاتمے کے دو ہی طریقے ہیں ، ایک فوج کو ختم کرنا اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید چوہدری نے کیا خطرناک مگر سچی بات کہہ ڈالی ؟ اس خبر میں پڑھیے

185

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) دنیا کے سو ممالک کی سیاست میں فوجی مداخلت تھی لیکن ان ممالک نے ستر برسوں میں آہستہ آہستہ فوجی ہاتھی کو اقتدار کے ڈرائنگ روم سے نکال دیا، ہم اگر جاپان سے لے کر جرمنی تک اور اٹلی سے لے کر ترکی تک ان سو ممالک کا مشاہدہ کریں تو

نامور کالم نگا جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں فوج کو سیاست سے بے دخل کرنے کے صرف دو طریقے ملیں گے، اول جرمنی اور جاپان ماڈل، ان دونوں ملکوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد فوجیں ختم کر دیں، بانس ختم ہو گیا تو بانسریاں بھی خاموش ہو گئیں، جاپان میں پچھلے ساٹھ برسوں میں 31 حکومتیں تبدیل ہوئیں لیکن اس کے باوجود ان کا سسٹم چل رہا ہے، جاپان کے تیس فیصد لوگ اپنے وزیراعظم کے نام تک سے واقف نہیں ہوتے، ان سے وزیراعظم کا نام پوچھا جاتا ہے تو یہ پچھلے یا اس سے پچھلے وزیراعظم کا نام بتا دیتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا ان کا وزیراعظم کس وقت تبدیل ہو گیا۔ جرمنی نے سیاست کو عبادت کی شکل دے دی چنانچہ وہاں کوئی بے ایمان شخص منتخب نہیں ہو سکتا اور اگر ہو جائے تو وہ زیادہ دیر تک اقتدار میں ٹھہرنہیں سکتا۔ دوسرا ماڈل گورننس تھا، سیاستدان اہل ترین لوگوں کو اقتدار میں لے کر آئے، انھوں نے فوج سے بہتر گورننس دی اور یوں فوج سیاست سے پسپا ہو گئی۔ آپ اس ضمن میں ملائشیا اور ترکی کی مثال لے سکتے ہیں، مہاتیر محمد1981ء میں اقتدار میں آئے اور انھوں نے ملک کی ہیئت تبدیل کر دی، ملائشیا ایشین ٹائیگر بن گیا جب کہ اس سے قبل وزیراعظم کا فیصلہ فوج کرتی تھی اور یہ ہی اسے فارغ کرتی تھی۔

ترکی سویلین گورننس کی تازہ ترین مثال ہے، عبداللہ گل اور طیب اردگان نے 2002ء میں اقتدار سنبھالا اور کمال کر دیا، طیب اردگان سے قبل فوج ترکی کی بلاشرکت غیرے مالک ہوتی تھی، استنبول کے سینیٹری ورکرز تک کا فیصلہ کور کمانڈر کرتاتھا لیکن طیب اردگان اور عبداللہ گل آئے اورملک کے تمام چھوٹے بڑے مسئلے حل کر دیے اور فوج کے پاس پسپائی کے سوا کوئی راستہ نہ بچا، آج ترکی میں تین سو اعلیٰ فوجی افسر سیاسی حکومت کے خلاف سازش اور الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور دھڑا دھڑ سزا بھی پا رہے ہیں۔ ہمارے پاس بھی سیاسی جھرلو سے بچنے کے دو ہی آپشن ہیں، ہم فوج ختم کر دیں، یہ ناممکن ہے کیونکہ فوج ملک کا واحد منظم ادارہ ہے، ہم تین اطراف سے دشمن میں بھی گھرے ہوئے ہیں چنانچہ ہم فوج کے بغیر سروائیو نہیں کر سکتے، دوسرا طریقہ گورننس ہے، ہم لوگوں کو جب تک میرٹ پر نہیں لگائیں گے ہم میرٹ پر فیصلے نہیں کریں گے، ہم گورننس بہتر نہیں بنائیں گے، ہم سیاست کو کرپشن سے پاک نہیں کریں گے اور ہمارے سیاسی رہنما ذاتی مفادات سے بالاتر نہیں ہوں گے، ہم اس وقت تک جھرلو، انتخابی دھاندلی اور الیکشن میں تحصیلدار،

پٹواری اور تھانے دار کا عمل دخل ختم نہیں کر سکیں گے، یہ کیسے ممکن ہے آپ تین ماہ میں 22 ارب روپے کا صوابدیدی کوٹہ خرچ کر دیں، آپ سی ڈی اے کو ٹکسال بنا دیں، آپ کے بھائی اور صاحبزادے سیاسی ڈیلر بن جائیں اور سیاست جھرلو سے پاک ہو جائے، آپ ملک کو بجلی فراہم نہ کریں، ملک میں سی این جی کی چار چار کلو میٹر لمبی لائنیں لگی ہوں اور آپ اپنے پیر صاحب کو سلام کرنے کے لیے تین تین سرکاری ہیلی کاپٹر لے جائیں اور ملک جھرلو سے بھی آزاد ہو جائے، ہم اس وقت تک جمہوریت کی پنیر نہیں بچا سکیں گے ہم جب تک فرش میں گورننس، میرٹ اور اہلیت کے پتھر نہیں لگاتے، ہم جب تک اپنے بھائیوں اور بچوں کو اقتدار کے کیک سے دور نہیں ہٹاتے، ہم اگر اقتدار کو اپنے خاندان کے جھرلو سے نہیں بچا سکتے تو پھر ہم پوری سیاست کو جھرلو سے کیسے نکالیں گے۔وزیراعظم نے کبھی یہ سوچا، شاید نہیں کیونکہ یہ آج بھی اقتدار کو اتفاق یا لاٹری سمجھ رہے ہیں اور لاٹریوں میں نکلنے والے وزیراعظموں سے بڑا جھرلو کوئی نہیں ہوتا اور جھرلو جھرلو کو ختم نہیں کر سکتا۔

Facebook Comments