تصاویر والے اشتہارات کے پیسے اب کون ادا کرے گا۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے ایک فیصلہ نے چاروں صوبوں میں ہلچل مچا دی

25

اسلام آباد(نیوزڈیسک آن لائن ) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارنے سیاسی رہنماؤں کی تصاویر والے اشتہارات کے پیسے پارٹی رہنماؤں سے لینے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا

کہ گزشتہ تین ماہ میں 24کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے، یہ اشتہارات یکم دسمبر 2017 سے لے کر 28 فروری 2018 تک دیئے گئے، تین ماہ کے اشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویر تلاش نہیں کرسکا۔چیف جسٹس نے سیکریٹری اطلاعات سے مکالمہ کیا کہ حکومتی اشتہارات پر 24کروڑ روپے لگادیئے، سیکریٹری نے بتایا کہ یہ اشتہارات عوامی آگاہی اور فیڈبیک کے لیے دیئے گئے۔دوران سماعت پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جمع کرائی۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ اشتہارات میں سیاسی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ جی ہاں، اشتہارات میں سیاسی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں۔اس پر جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ ذاتی تشہیرکے پیسے کون دےگا؟ کیا آپ نے 55لاکھ روپے کا پہلے والا چیک دے دیا ہے؟ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پورا دن سنوں گا، یہ معاملہ ایک دو دن میں حل ہوجائے گا ، اس پر کام کررہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی لیڈران کی تصاویراشتہارات میں لگوانا بند کرادیں۔یاد رہے جسٹس ثاقب نے نثار نے حکم دیا کہ اشتہارات میں

جو تصاویر لگی ہیں پارٹی رہنماؤں سے پیسے واپس کرادیں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے لیپ ٹاپ اور ہیلتھ کارڈ اسکیم پر شہبازشریف کی تصویر کا نوٹس لیا تھا اور گزشتہ روز سیاسی رہنماؤں کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی بھی عائد کی۔یاد رہے سپریم کورٹ نے الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کوترقیاتی فنڈز جاری کررہی ہے، کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول دھاندلی میں نہیں آتا؟جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن سے پہلے کروڑوں کے فنڈز کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں؟چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے فنڈز کے اجراء کی قانونی حیثیت پوچھ کرعدالت کو آگاہ کریں۔ ایک اور خبر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عام انتخابات سے قبل حکومت کے ترقیاتی فنڈ ز کا نوٹس لے لیا ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے استفسار کیا ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے کروڑوں کے فنڈزکس قانون کے تحت دیتی ہے ؟۔ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کی صوابدید پر فنڈز کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن سے پہلے ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر پابندی لگا دیں ۔

Facebook Comments